ریحان اللہ ۵۰۰ میچوئل دوست بنانے کا کیوں کہتے ہیں؟

مجھے بہت سال ہوگئے ہیں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سارے کاروبار شروع کئے ، بہت سی چیزیں شروع کیں۔ جو سب سے بڑا چیلنج آتا ہے میرے دوستوں اور بزنس مینس کو آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں یار اچھے لوگ نہیں مِلتے ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں دوسو سے زیادہ یونیورسٹیز ہیں، ہزاروں لاکھوں کے حساب سے اسکولز ہیں ۔ کیوں نہیں ہمیں اچھے لوگ مِل پاتے؟ جب آپ اچھے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو اچھے لوگوں سے مُراد یہ ہوتی ہے لوگوں کی کہ ایسے لوگ جو آپ کی بات کو سمجھ سکیںآپ کے ساتھ بات چیت اچھی طرح سے کرسکیں۔آپ کی بات کو سمجھ بھی سکیں صرف بول نہ سکیں بلکہ سمجھ بھی سکیں، اور تیسرا یہ کہ آ پ کے پاس اور اُن کے پاس جو علم ہے وہ ایک جیسی ہو ، آپ کے کام سے متعلق علم ایک جتنا ہو۔ اور جب بات آتی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یا گلوبلائزیشن کی یا گلوبل بزنس کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر لوگ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں زیادہ تر ۔ اگر کسی کو موقع ملے ، آپ اُٹھا کر دیکھیں کہ جتنے گریجوئٹس ہیں کالج یا اچھی یونیورسٹیز کے وہ مُلک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو جو پیچھے آپ کے لوگ رہ جاتے ہیں وہ کم سفر کرتے ہیں اور وہ پاکستان میں دل سے رہنا نہیں چاہتے یا پھر یوں کہہ لیں کہ مجبوری میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ اب بہت سارے لوگ ہوسکتا ہے اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جو مُجھ کو نظرآتی ہے بہت سارے لوگوں کی حقیقت الگ ہوتی ہے اُس کے بعد جو یہ بچے کُچے لوگ رہ جاتے ہیں اُن کو کوئی بات سمجھانا بہت مُشکل ہوجاتا ہے تو اُن کی تھَرو ٹریننگ کی جاتی ہے یا ہم اُن کو کسی ایسی جگہ فِٹ کرتے ہیں کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی پوسٹ پر ہوتے ہیں یا کسی سی لیول پر ہوں سی ایم او، سی ایف او ،سی ٹی او، سی ای او۔ تومُشکل ہوتاہے اُن کو سمجھانا تھوڑا مُشکل ہوتا ہے کیوں کہ اُن کو آپ کی بات غیر واضح لگ رہی ہوتی ہے خاص طور پر ڈاٹ کام بزنس میں اور گلوبل ایرینا میں۔ کیونکہ دُنیا انہوں نے نہیں گھومی ہوتی اُن کی حقیقت الگ ہوتی ہے آپ کی حقیقت الگ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میں ۷۰ مُلک گھُوما ہوں ، میرے ساتھ جو لوگ کام کرتے ہیں اگر وہ دو مُلک بھی نہیں گھومے تو اُن کی میری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی اسلئے کہ اُن کو لگے گا کہ یہ سب کچھ باہر کی دُنیا میں ہوسکتا ہے پاکستان میں نہیں ہوسکتا تویہ وہ چیز ہے جو سفر کے ساتھ نظر آتی ہے ، تجربے کے ساتھ نظر آتی ہے پھر میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا کہ جب آپ کسی انسان سے ملتے ہیں تو آپ کی انرجی اور اُس کی انرجی آپس میں شیئر ہوتی ہے آپ کا علم اور اُس کا علم شیئر ہوتا ہے تو وہ آپ کی سوچ اور آپ کو ایک الگ انسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنی کوشش کے باوجود بھی آپ مُختلف ہوجاتے ہیں جب آپ کسی انسان سے مِلتے ہیں چاہے وہ دس سیکنڈ ہی کیوں نہ ہواگر ایک گھنٹے مُلاقات ہوجائے تو میراتجربہ ہے کہ انسان کم سے کم ایک فیصد ضرور بدل جاتا ہے اگر وہ ایک آدمی سے ایک گھنٹے مُلاقات کرلے اور اُس سے باتیں کرے تواب میں یہ ساری باتیں اور سفر لوگوں کو کراؤں اسکا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا ، اگر مُجھے سوآدمی چاہئیں کام کے لیئے تو جن سے میں کام لینا چاہتا ہوں یا جن کو میں کچھ سمجھانا چاہوں یا مینٹر کرنا چاہتا ہوں تومیں اُنکی متعلقہ معلومات کیسے بدلوں ، اُن کی جو معاشرے کی حقیقتیں ہیں وہ اتنی الگ ہیں جب میں ان کو کوئی بات سمجھانے کی کوشش بھی کرتا ہوں تو وہ ضائع ہوجاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے نہیں ہوتا ہمارے مُلک میں، تو پھر میں نے کیا کیا کہ میں یہ سات آٹھ سالوں سے کررہا ہوں کہ میں اپنے دوستوں کو ہم خیال کرنا چاہتا ہوں اُن کے پاس باہر کے لوگوں کی آئی ڈی بھیجنا شروع کردیتا ہوں تاکہ اُن کی جو کیپیسٹی ہے معلومات کی وہ بڑھ جائے ، اگر آپ ایک کام کررہے ہیں اور دوسرا بھی کوئی کام کرہا ہے تو دو مل کر کریں گے تو جلدی ہوجائے گا۔ میرا ایک خواب ہے کہ میں پاکستان میں ایک ملین لوگوں کو اِمپاور کرنا چاہتا ہوں جو کہ بزنس مین بن سکیں اب اُس خواب کے اندر جو میرے سامنے سب سے بڑی رُکاوٹ آتی ہے وہ یہ کہ مُجھے ہم خیال لوگ نہیں ملتے۔ جن لوگوں کو میں جاب پر رکھتا ہوں اُنہیں میری بات سمجھ نہیں آتی تھی ان کو میرا طریقہ سمجھ نہیں آتا تھا اور بہت ساری باتیں تھیں۔ اور میں ایک اچھا مینیجر بھی نہیں ہوں۔ میں نے چونکہ باہر مُلک میں بہت سال کام کیا ہے ورچوئلی ہی صحیح لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ خود اعتمادی کے ساتھ مینیجر یا سی ای او کوجو کام بھی دے دیا جاتا ہے اور وہ کام کرتا رہتا ہے اب پاکستان میں ایسے لوگ یا تو بہت مہنگے مِلتے ہیں یا پھر وہ ہوتے ہیں جو مُختلف مُمالک گھوم کر آچُکے ہوں ، اوپن مائینڈڈ ہوں ، ہر چیز کو ایکسیپٹ کرتے ہوں بہت کتابیں پڑھتے ہوں تو اُن کی جو سیلری لیول ہے وہ ایک لاکھ دو لاکھ روپے سے اُپر چلا جاتا ہے ۔ پاکستان میں جو مینیجر بیس سے پچیس ہزار پر آپ ہائر کریں گے ، آپریشنل مینیجر ہائر کرتے ہیں یا ایم بی اے رکھتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ وہ بیس سے پچیس ہزار میں مل جاتا ہے لیکن اُس ایم بی اے کے اندر چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ کام نہیں کر پاتااُس کی وجہ کیا ہوتی ہے کہ اُس کی معلومات رٹے والی ہوتی ہے لیکن اُس نے دُنیا نہیں دیکھی ہوتی اور دُنیا نہ دیکھنے کی وجہ سے اُس کی جو تراشائی جیسے ہر ہیرے کو پتھر سے تراشا جاتا ہے،کیونکہ اُس کی مُلاقات بہت سارے لوگوں سے نہیں ہوئی ہوتی تو اُس میں چمک نہیں ہوتی۔ میں نے یہ نوٹ کیا ہے کچھ سالوں پہلے کہ جس آدمی کے بھی مُجھ سے میچوئل دوست بڑھ جاتے ہیں تو اُس کو میری باتیں سمجھ آتی ہیں یا پھر کوئی بہت ذہین آدمی ہوتا ہے اُسے میری بات سمجھ آتی ہے تو میں نے اپنے آفس میں یہ شرط رکھ دی کہ سب نے میرے ۵۰۰ غیر مُلکی دوست بنانے ہیں تو اُس سے میں نے یہ دیکھا کہ بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا میرا کام آسان ہوگیا جو ایک کام ایک گھنٹے میں سمجھانے میں لگتا وہ آدھا منٹ میں سمجھ آجاتا ۔ تو پھر میں نے امریکہ میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ اس کو کیسے بڑھاؤں؟تاکہ اس کو چیک کرسکوں۔ تو میرے دوست نے کہا کہ کوئی گفٹ دے دو، لیپ ٹاپ دے دوتو مُجھے یہ آئیڈیا اچھا لگااور میں نے شروع کردیا تو تقریباً آٹھ مہینے میں سولوگوں نے پانچ سو میچوئل دوست بنالئے اُن میں صرف پانچ ایسے ہونگے جن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دوسرا چیلنج یہ آیا کہ انہوں نے اُن دوستوں سے بات نہیں کی ، انہوں نے صرف فرینڈ بنالئے انہیں کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا۔ہمارا دماغ معاشرے کی وجہ سے بدلتا ہے ہم اردو اسلئے بولتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں بولی جاتی ہے اگر آپ جاپان چلے جائیں تو ایک سال میں جاپانی زبان بولناشروع ہوجائیں گے کوئی بھی نہیں سِکھارہا ہوگا اُدھر کیونکہ آپ سُنتے جائیں گے تو آپ کا دماغ سیکھ جائے گا ۔کہتے ہیں نا خربوزے کو دیکھ کر خربوزا رنگ پکڑتا ہے تو میرے پاس دُنیا کے پانچ ہزار بہت ہی دلچسپ دوست موجود ہیںآپ جب ان سے بات کریں گے تو اس بات کرنے سے جو آپ ریفلیکشن دیکھیں گے اپنا شیشے کی طرح اُس کی نظر سے تو وہ آپ سے پوچھے گا کہ آپ کے مُلک میں یہ مسئلہ کیوں ہے؟یا آپ کے کاروبار میں مسئلہ کیوں ہے؟تو آپ سوچیں گے کہ اس کا تو کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ پوچھ رہا ہے تو میں اسے سوچ کر بتاؤں گااور آپ چاہے پھر جھوٹ بولیں یا سچ بولیں لیکن آپ کا دماغ مُختلف طریقوں سے سوچنا شروع ہوجائے گا کہ یہ مسائل کیوں ہیں؟ حالانکہ وہی بات جب آپ کے اپنے مُلک کے لوگ پوچھیں گے تو آپ کہیں گے کہ یہ امریکہ کا مسئلہ ہے لیکن اگر کوئی امریکی ہوگا تو وہ آپ سے پوچھ لے گا کہ آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے؟تو آپ اس کے اگلے سوال پر پہنچیں گے پھر اس سے اگلے سوال پر تو آپ مسئلہ کی گہرائی تک جائیں گے تو جو بات آپ کو سمجھ نہیں آتی تھیں وہ آپ کو سمجھ آنے لگیں گی اس تراشی کی نتیجے میں مُجھے ایسے لوگ مل رہے ہیں جنہیں میں آرام سے بات سمجھا پاتا ہوں وہ پانچ سو لوگوں کو مناسکتے ہیں اُس سے اُن کی خودی بہت بڑھ جاتی ہے اُس کے اندر کانفیڈنس بڑھ جاتا ہے اُس کے اندر معاشرے کی اور دین کی معلومات ، باہر مُلکوں کی معلومات بہت بڑھ جاتی ہے اُس کا دُنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی آدمی میرے پانچ سو دوست بنالے اور پانچ سے بات کرلے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پانچ مُلک سفر کرکے آیا ہے کیونکہ اُسے کم سے کم تین مہینے لگیں گے جو جلدی بنالیتے ہیں اُس کا اثر نہیں ہوتا اثر صرف بات کرنے سے آئے گا جب آپ کو اُن سے کنیکٹ ہونے میں مُشکل آئے گی تو آپ سوچیں گے کہ یہ کیوں نہیں بات کررہا یا مُجھ میں کیا خرابی ہے پھر آپ کو معلوم ہونا شروع ہوجائے گا ۔ میں نے آپ کو ایک پلاٹ فارم دے دیا ہے کہ جہاں آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ میں کیا خرابی ہے اگر کوئی اور آپ کو بتائے گا تو آپ سمجھیں گے کہ یہ تو مطلبی ہے، ہر کوئی اگر میرے پاس آکر پوچھے گا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے تو میں نے ایک سیلف آرگنائزنگ گروپ بنادیا ہے اس کو آپ جوائن کرسکتے ہیں پانچ سو میچوئل دوستوں کا تجربہ کے نام سے ہے اس میں سات سو لوگ ہیں پھر جب آپ اپنے آپ کو دیکھیں گے تو آپ کو اپنی خرابیاں نظر آنے لگیں گی لیکن اگر آپ کو کوئی اور بتائے گا توآپ اس سے کہیں گے کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر میں کچھ بھی کروں تو یہ ہمارے اندر کمزوری ہے تو یہ ہم دوسروں سے بات کرکے ختم کرسکتے ہیں خود کو تراش لیتے ہیں اور یہ ایک ورزش ہے جو میں نے اپنی زندگی میں آزمائی ہے اور بہت ساروں کو کروائی ہے اور اب مُجھے اس کے نتائج بھی معلوم ہیں ایسے میں کسی کو بولتا ہوں جاؤ میرے پانچ سو دوست بنالو تو کوئی بھی نہیں بناتا لیکن یہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ کی لالچ میں بہت سارے لوگ بنانا شروع کرتے ہیں اور جب سو لوگوں سے دوستی کرکے صرف پچیس لوگوں سے بات کرتے ہیں تو مُجھے میسیج کرتے ہیں کہ سر آپ کا بہت شکریہ آپ نے ہماری زندگی کا پیٹرن ہی بدل دیا ہے اور اب ہم زندگی کو بہت الگ نظر سے دیکھتے ہیں اور میرا مقصد بھی یہی ہے کہ میں ایک ایسا انسان معاشرے کو دے دیتا ہوں جو کسی بھی مسئلے کو حل کر سکے اور اس کو مختلف طریقوں سے دیکھ سکے وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا ایک چھوٹے سے پراسس سے ایک دس ہزار کے تحفے سے کہ وہ کچھ بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔آپ ایک دو سال میں دیکھیں گے کہ اگر آپ اس کی لَمس ، آئی بی اے کے کسی گریجوئٹ سے ٹکر کرادیں تو یہ ان سے اچھا کامیاب انسان ثابت ہوگااگریہ پورے پراسس سے گزرے گا۔ میں نے کوئی اُسے چار سال یا سولہ سال کیلئے کسی یونیورسٹی نہیں بھیجا میں نے صرف اُسے یہ کہا ہے کہ وہ لوگوں سے مُلاقات کرے ۔ تو سفر بہت طاقتور چیز ہے اگر آپ جسمانی سفر نہیں کرسکتے تو ورچوئل سفر کرلیںآپ اسے ضرور آزمائیں اس کا جو رزلٹ ہے وہ بہت ہی زبردست ہے اب ہم اسے ایک کتاب کی شکل دے رہے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کو کتنا فائدہ ہورہا ہے ۔ اس پر ہم پیپر لکھ دیں گے کہ آئیے اسے پڑھیں۔ ایک دفعہ مُجھ سے آصف جمالی پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کرسکتا ہوں؟ تو میں نے آصف سے پوچھا کہ آپ نے جو اتنے سارے دوست بنالئے ہیں اور سندھ ہیلپ سینٹر کھول لیا ہے اور آپ اس میں لوگوں کی مدد کرتے ہیںآپ ویڈیو بنالیتے ہیں۔دوسرے دوست ایسا کیوں نہیں کرتے؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی شکل دیکھ کر گھبراتے ہیں تو جو قوم اپنی شکل دیکھ کر گھبراتی ہو اور اپنی ویڈیو بناکر فیس بُک پر ڈالنے سے گھبراتی ہو تو وہ قوم کیا کرے گی آگے جاکر؟ وہ کیسے کچھ بڑا حاصل کرے گی؟اگر اپنے آئیڈیے کونہیں بیچ سکتی تو اپنی پراڈکٹ کو کیسے بیچے گی؟