اکثر لوگ کہتے ہیں: ”پاکستانی تو صرف وہ فرنیچر چاہتے ہیں جو دس سال چلے، IKEA جیسا بزنس یہاں نہیں چل سکتا“۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ایسا بزنس پاکستان میں سب سے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
IKEA دنیا کی سب سے بڑی فرنیچر کمپنی ہے۔ یہ سویڈن میں 1943 میں ایک نوجوان انگوار کامپراد (Ingvar Kamprad) نے شروع کی تھی۔ اُس وقت فرنیچر بھاری اور مہنگا ہوتا تھا، عام لوگ خرید نہیں سکتے تھے۔
کامپراد نے سوچا:
اسی لیے IKEA نے شروع میں ہزار ڈیزائن نہیں بنائے۔ انہوں نے صرف چند ڈیزائن منتخب کیے، ہزاروں لاکھوں بار وہی ڈیزائن بنایا، اور قیمت کم کرتے گئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ IKEA دنیا کے 60 سے زیادہ ملکوں میں چھا گیا اور عام آدمی بھی خوبصورت اور جدید فرنیچر خریدنے لگا۔
پاکستان میں روزانہ 20 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سال 70 لاکھ نئے لوگ آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ سب بڑے ہو کر گھروں، اپارٹمنٹس، ہاسٹلز اور کرایے کے مکانوں میں رہیں گے اور انہیں فرنیچر چاہیے ہوگا — بیڈ، کرسی، الماری، میز۔
لیکن آج زیادہ تر لوگ پرانا، بھاری لکڑی کا فرنیچر خریدتے ہیں کیونکہ سستا اور ماڈرن آپشن موجود نہیں۔ یہ ایک بہت بڑا خالی پن ہے جسے ایک پاکستانی IKEA پُر کر سکتا ہے۔
پاکستانی مڈل کلاس آج پچاس ہزار روپے کا سادہ بیڈ یا صوفہ چاہتا ہے، نہ کہ پانچ لاکھ روپے کا بھاری فرنیچر جو بیس سال چلے۔
وہ کرائے کے گھر میں رہتا ہے، اکثر شفٹ کرتا ہے، اور ہلکا، آسانی سے لے جانے والا فرنیچر چاہتا ہے۔
IKEA کا اصل فارمولا یہی ہے: سادہ، سستا، ماڈرن اور آسانی سے جوڑنے والا فرنیچر۔
پاکستان میں عموماً فرنیچر والے کہتے ہیں: “ہمارے پاس سو ڈیزائن ہیں، آپ جو چاہیں لے لیں۔” لیکن بزنس کا اصول یہ ہے کہ زیادہ ڈیزائن = زیادہ خرچ۔
IKEA نے یہ اصول توڑا۔ انہوں نے کہا: ہم ہزار ڈیزائن نہیں بنائیں گے۔ ہم صرف چار یا پانچ ڈیزائن لیں گے، اور لاکھوں بار وہی بنائیں گے:
بس۔ جب آپ ہزاروں بار ایک ہی چیز بناتے ہیں، تو:
یہی وہ فیکٹری پراسس ہے جو پاکستان میں غائب ہے۔
IKEA سویڈن کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوا اور دنیا بدل دی۔ پاکستان کے کسی شہر سے بھی ایک نوجوان اُٹھ کر یہی کر سکتا ہے۔
سوچنا یہ نہیں کہ پاکستانی مارکیٹ مختلف ہے۔ سوچنا یہ ہے کہ یہ مارکیٹ بھوکی ہے، اور کوئی بھی جو یہ خلا پُر کرے گا، اربوں کمائے گا اور پاکستان کو بدل دے گا۔
ہزار ڈیزائن چھوڑو — صرف چار ڈیزائن بنا کر ہزاروں بار بیچو۔
یہی ہے وہ راز جو پاکستان کا IKEA بنائے گا۔
👉 Call to Action:
آپ کے خیال میں پاکستان میں IKEA جیسا بزنس کب شروع ہونا چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں لکھیں!