Gup Shup | Rehan Allahwala

Gup Shup - گپ شپ

دیباچہ
السلام علیکم! کیسے ہیں آپ؟ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔
میرا نام ریحان اللہ والا ہے اور میں ایک عام سا انسان ہوں۔یہ کتابچہ، جو اس وقت آپ پڑھ رہے ہیں، دراصل2011 ء میں Ground Brakers Societyکے تحت کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے پروگرام “Brain Leverage”میں کی گئی میری تقریر کی تحریری صورت ہے۔ اگر آپ اس پروگرام کی ویڈیو دیکھنا چاہیں تو میری ویب سائٹ پر ملاحظہ کرسکتے ہیں جس کا پتہ یہ ہے:
www.rehanallahwala.com/speakings/ku
اس پروگرام میں جن طالب علموں نے شرکت کی اور بعد میں جن لوگوں نے اس کی ریکارڈنگ سے استفادہ حاصل کیا، ان کے مشورے پر میں نے اس تقریر کو کتابچے کی صورت میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ جن لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں وہ اس کتابچے سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل میں نے ایک اور مختصر کتابچہ “انٹرنیٹ اور اس کے فوائد” کے نام سے شائع کیا تھا۔ اگر آپ اسے پڑھنا چاہیں تو راہبر پبلشرز، اردو بازار، کراچی سے حاصل کرسکتے ہیں یا میری ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جس کا پتہ یہ ہے:
www.rehanallahwala.com/books

میری کہانی
میرا نام ریحان اللہ والا ہے۔ میں سُپر ٹیکنالوجیز( Super Technologies Inc.) کا بانی و صدر ہوں۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں CRM ، ERP سافٹویئرز کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔
میں نے اپنا پہلا کاروباری ادارہ 13 سال کی عمر میں قائم کیا جس کا نام پاکستان کمپیوٹرز ہے۔ اس کے بعد 16سال کی عمر میںCommodore Computer نامی ادارے کے لیے مختلف کمپیوٹر ہارڈ ویئرز بنائے جس میں Voice Digitizer، Modem اور Parallel Speed Increasersشامل ہیں۔
1999 ء میں، میں نے امریکا میں سُپر ٹیکنالوجیز کی بنیاد رکھی اور آج یہ ادارہ ٹیلی فون سروسز فراہم کرنے والے ایک ہزار سے زائد اداروں کو سافٹویئرز فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ ملائشیا، سنگاپوراور دبئی سمیت دنیا کے 26 ممالک میں میرے پچاس سے زائد ادارے موجود ہیں۔
اگر آپ میرے بارے میں مزید جاننا چاہیں تو میری ویب سائٹ پر تشریف لائیں:
www.rehanallahwala.com
www.facebook.com/rehanallahwala

بچپن میں کاروبار کا آغاز
ہمارے یہاں ایک مشہور کہاوت ہے “کھلاؤ سونے کا نوالہ، دیکھو شیر کی نگاہ سے” تو اسی لیے ہمارے گھر میں کسی کو بھی پیسے مفت میں نہیں ملتے تھے۔ خود میں نے بچپن میں کاروبار ایسے شروع کیا کہ گھر سے جو پیسے ملتے تھے اس سے کچھ چھوٹا موٹا کام کر لیا۔ جیسے کلاس میں ربڑ یا دوسری اسٹیشنری بیچنا شروع کردی، عید پر اور 14 اگست پر جھنڈیاں بیچنا شروع کردیں۔
اس کی ایک تازہ مثال میرے صاحبزادے کی ہے۔ ان کا نام سعد اللہ والا ہے۔ ان کو اپنا جیب خرچ خود کمانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر روز میرے پاس آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ابو آج آپ کونسا سینڈوچ کھائیں گے؟ پھر وہ سینڈوچ کے پیسے طے کرتے ہیں، مجھے سینڈوچ بنا کر دیتے ہیں اور اس کے عوض مجھ سے پیسے لیتے ہیں۔ اس طرح ہم اپنا جیب خرچ کماتے اور بڑھاتے ہیں۔
اب سعد اللہ والا بزنس کارڈز بیچتے ہیں۔ یہ 750 روپے لے کر آپ کو بزنس کارڈ چھاپ کر دیں گے جس میں آپ کی تصویر لگی ہوگی اور آپ کی کاروباری تفصیلات بھی لکھی ہوں گی۔ تو جب بھی آپ کسی سے ملاقات کریں اور اس کو اپنا تعارف کروائیں تو ساتھ ہی اپنا کارڈ بھی دیں جس میں آپ کا نام، موبائل نمبر، ای میل ایڈریسوغیرہ موجود ہو۔ یوں آپ کا کام بھی ہوجائے گا اور وقت بھی بچے گا۔ یعنی جس سے آپ ملاقات کر رہے ہیں وہ آپ کو باآسانی یاد رکھ سکے گا اور ضرورت کے وقت آپ سے رابطہ بھی کرسکے گا۔

Entrepreneurshipکی شروعات
ہوتا یہ ہے کہ بطور Entrepreneur ہم ہر چیز فروخت کرتے ہیں، بیچتے ہیں اور یہ چیز کسی مسئلے کا حل بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً کسی نے بہت سالوں پہلے کوشش کی ہوگی کہ امی اچھے کھانے نہیں بناتیں تو اس مسئلہ کو حل کیا جائے؟ تو اس نے کسی سے کہا کہ یار تم کھانا پکا دو دس روپے کی تم سے ایک ٹریڈ ڈیل کرلوں گااور یوں ریستوران وجود میں آگئے۔ اسی طرح کسی نے کہا ہوگا کہ میری بیوی کپڑے اچھے نہیں سیتی تو اس مسئلہ کا حل نکلا کہ لوگ ٹیلر بن گئے۔ تو میں بھی یہی کام کرتا ہوں یعنی مسائل کا حل تلاش کرتا ہوں۔
ہم جو بھی کر رہے ہیں وہ کوئی شو بازی نہیں ہے بلکہ ہم منافع کے لیے کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ میرے ساتھی حلال روزی کما کر بہترین جنت حاصل کریں گے۔ اس کے لیے مجھے آپ جیسے ساتھیوں کی ضرورت ہے۔ تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی اگر آپ جتنی اور جیسے ممکن ہوسکے میری مدد کریں۔ اور یہ مدد آپ کو پیسے سے نہیں کرنی بلکہ تعلیم بانٹ کر کرنی ہے۔ کوئی غریب آپ کو ملے، اسے سکھائیں، اسے تعلیم دیں۔ میں آپ سے نہیں کہہ رہا کہ پیسے بانٹیں، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ کسی کو بھی پیسے نہ دیں۔ جس دن ہمارے یہاں بھیک ملنا ختم ہوجائے گی ہم خودبخود ٹھیک ہوجائیں گے۔

جتنے مسائل، اتنے مواقع
کون کون سمجھتا ہے کہ ہمارے ملک میں مسائل بہت ہیں؟ سب ہی سمجھتے ہیں کہ بہت سارے مسائل ہیں۔ لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہی مسائل اصل میں ہمارے لیے کام کرنے کے مواقع بھی ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جہالت ایک بڑا مسئلہ ہے؟ تو آپ اپنے اطراف میں دیکھیں اس کا حل نکالیں360 Training جیسے ادارے بنائیں جس کے دنیا بھر میں 100 سے زائد ملازمین ہیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں غربت بہت اہم مسئلہ ہے توآپ اس کا حل نکال کر اس کے ذریعے بہت سے پیسے بنا سکتے ہیں۔ تو جو بھی مسئلہ نظر آئے اس کا حل تلاش کریں اور اس سے پیسے کمائیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں بہت کچرا ہے، اٹھائیں اور اس سے پیسے کمائیں۔ یقین کریں یہ اربوں ڈالر کی انڈسٹری ہے۔ کچرے کا کاروبار بہت ہی آسان ہے۔ ہاں اس کے لیے آپ کو اپنے اندر سے انا یعنی Ego کو نکالنا ہوگا۔ جب Ego کو نکال دیں گے اور مسئلہ خودحل کرنے کی کوشش کریں گے تو مسائل حل ہوتے چلے جائیں گے اور آپ کو خود بخود اس سے منافع ہوتا چلا جائے گا۔ اور ہاں راتوں رات امیر بننے کی کوشش ہر گز نہ کریں۔ایک مشہور کہاوت ہے:
It takes ten years to become an overnight success.
تو اپنے آس پاس موجود مسائل کو دیکھیں پھر ان کا حل تلاش کریں۔ میں جہاں جاتا ہوں وہاں مجھے کوئی بھی مسئلہ نظر آتا ہے تو میں اس کا حل بناتا ہوں۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں، opportunist بنیں۔ سوچیں، آئیڈیاز تلاش کریں اور چھوٹے پیمانے پر شروعات کریں۔ اب تو آپ فیس بک کے ذریعے ایک صفحہ بنا کر بھی اپنا کام شروع کرسکتے ہیں اور بہت سارے لوگوں کو وہاں بلا سکتے ہیں۔ میرے پاس اس وقت 37 کاروباری آئیڈیے ہیں اور ہم اس کے لیے لوگ ڈھونڈ رہے ہیں۔
ہم نے اصل میں ڈگریوں کو اہم بنادیا ہے کہ Stanford کی ڈگری ایک لاکھ ڈالر کی آئے گی اور آپ وہاں جائیں گے تو اس کے بعد ہی آپ کو اچھی جاب مل سکے گی۔ آخر کیوں؟ جب سارے Stanford کورسز انٹرنیٹ پر آن لائن رکھے ہوئے ہیں تو آپ کیوں گھر بیٹھےStanford کے گریجویٹ نہیں بن جاتے؟ اصل میں ڈگری اہم کیوں ہے؟ رشتوں کے لیے اہم ہے؟ لیکن ایسی لڑکی سے شادی کرنے کا کیا فائدہ جس کے لیے آپ سے زیادہ ڈگری اہم ہو؟ تو پھر آپ کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہاں، تو مجھے ضرور بتایئے کہ آپ کیا کام کرنے والے ہیں؟
کیا آپ کسی ایسے بچے کو جانتے ہیں جو پیدا ہوا اور بھاگنا شروع کردے؟ میں تو ایسے کسی بچے کو نہیں جانتا کہ یہاں اس کی پیدائش ہوئی اور وہاں اس نے فوراً بھاگنا دوڑنا شروع کردیا۔ اس مثال سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ دو سال تک صرف امی کو تنگ کرتا ہے۔ آپ نے اگرکوئی کاروبار شروع کیا ہے، کوئی بزنس بنایا ہے تو آپ اس کی امی ہوں گے۔ آپ اس کی پوٹی صاف کریں گے اور اس کا رونا دھونا بھی برداشت کریں گے۔ اور دو سال گزرنے کے بعد جب وہ امی بولے گا تو ہماری ساری محنت وصول ہوجائے گی۔اگر آپ روزانہ پوٹی صاف نہیں کرسکتے تو آپ بزنس شروع نہیں کرسکتے۔ اور یہ ایک کْل وقتی کام full time job) ) ہے۔ اوریہ ایک ایسی چیز ہے جو آپ کو اتنا فائدہ دے گی جتنا آپ خود چاہیں گے۔
پاکستان میں 180 ملین لوگ رہتے ہیں۔ اگر میں 180 ملین لوگوں سے ایک روپے روز کماسکتا ہوں تو کتنے پیسے کمالوں گا؟ 180 ملین۔ کسی کے لیے یہ پیسے کم ہیں؟ بالکل بھی نہیں۔ اگر میں ایک سال تک ایک روپے روزانہ کما ؤں تو یہ کْل ملا کر کتنے پیسے بنیں گے؟ 18کروڑ روپے۔ کسی کے پاس اتنے سارے پیسے ہیں؟ تو بات صرف ہماری سوچ کی ہے۔ جتنا بڑا ہم سوچیں گے اتنا ہی زیادہ ہمیں فائدہ ہوگا۔ ہمارے پاس پورا ملک ہے جس کے مسئلے حل کر کے ہم بہت سارے پیسے بنا سکتے ہیں۔

اپنے کام سے محبت کریں
کیا آپ کو کوئی چیز بے انتہا پسند ہے؟ یا (لڑکی کے علاوہ)کسی چیز سے محبت ہے؟ مثلاً گاڑی، موبائل یا کسی بھی دوسری چیز سے۔ تو جب آپ کو کسی سے محبت ہوتی ہے اگر اس کا رات 12 بجے فون آجائے تو اٹھنا پڑتا ہے کیوں کہ یہ ہوتی ہے سچی محبت۔ تو کسی ایسی چیز سے، یا کسی بھی سبجیکٹ (subject)سے محبت کریں جس سے آپ کا جذباتی لگاؤ ہو اور جو آپ کا passion ہو۔
پہلی جنگ عظیم میں فرانس کی فتح میں ایک کلیدی کردار کرنے والا فرانسیسی جنگی ہیرو فرڈیننڈ فوش نے کہا ہے کہ “اس دنیا میں سب سے طاقتور ہتھیار (چیز) وہ انسانی جذبہ ہے جو کسی مقصد کے لیے سرگرم عمل ہے۔”
The most powerful weapon on earth is human soul set on fire
تو جب آپ کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو اگر آپ نے اس کو ساڑھے چار بجے کا ٹائم دیا ہے تو چار بج کر اکتیس منٹ نہیں ہوں گے بلکہ آپ چار بج کر بیس منٹ پر ہی پہنچ جائیں گے۔ لیکن جب آپ نوکری پر جاتے ہیں تو 9 بجے کے بجائے 10 بجے پہنچتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اس کام سے محبت نہیں ہے۔ اور جب تک آپ کو اپنے کام سے محبت نہیں ہے، آپ کا کام اچھا نہیں ہوگا۔
کوئی لڑکی ہوگی تو وہ چماٹ مارے گی اور بھگادے گی۔ لیکن جب آپ اپنے کام میں اچھے ہوجائیں گے، جب آپ کو یقین ہے کہ آپ اس لڑکی کے سامنے اپنا لوہا منوالیں گے اور وہ کہے گی کہ یار یہ تو بالکل وقت پر آتا ہے، میرا انتظار بھی کرتا ہے، میرے لیے پھول بھی لے کر آتا ہے، ساتھ مٹھائی کا ڈبہ بھی لے کر آتا ہے تو آپ کی اس سے شادی ہوجائے گی۔ پھر آپ آرام سے بیٹھ کر سکون کا سانس لیں۔ بالکل یہی معاملہ آپ کے کاروبار کے لیے بھی ہے۔
جب آپ اپنے کاروبار میں dedication کے ساتھ لگ جائیں گے تو اس کے بعد آپ کاpayback time شروع ہوجائے گا۔ ہر کاروبار کو بنانے میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں، بعض اوقات establish کرتے کرتے تین سال بھی لگ جاتے ہیں۔ جو چیز آپ نے نہیں کرنی وہ کیا ہے؟ جب ابا ڈانٹیں، لڑکی کے ابا ڈانٹیں، تو کیا کریں گے؟ لڑکی کوچھوڑدیں گے؟ محبت کی ہے تو پوری طرح کریں گے ناں! تو جب ڈانٹ پڑے تب کاروبار بھی نہیں چھوڑنا ہے چاہے وہ ابا کی ڈانٹ ہو یا کسی کی بھی ڈانٹ ہو۔
جس آدمی کو بھی آپ بڑا اور کامیاب سمجھتے ہیں اس کی زندگی کا مطالعہ کریں یا انٹرنیٹ پر جا کر اس کی ویڈیوز دیکھ لیں۔ وہ یہی بتائے گا کہ میں دو دن بھوکا رہا ہوں۔ جب تک وہ بھوکا نہیں رہتا، اس کا دماغ کام نہیں کرتا۔ آپ بھی جب بھوکے رہیں گے تو سمجھ میں آئے گا کہ ہم نے خود کو کیسے ٹھیک کرنا ہے۔ جب آپ خود کو ٹھیک کرلیں گے خود بخود ساری چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ کیا آپ کو law of attraction کے بارے میں معلوم ہے؟ یہ ایک قدرتی قانون ہے کہ جب آپ کچھ کام سوچتے ہیں اور اس کام کرنے کا جذبہ آپ کے اندر بیدار ہوتا ہے تو آپ کے اندر سے شعاعیں نکلتی ہیں اور یوں آپ کا کام ہوجاتا ہے۔ کیسے ہوجاتا ہے؟ یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن ایسا حقیقت میں ہوتا ہے۔
آپ ایدھی صاحب کو تو جانتے ہوں گے۔ ایدھی صاحب بہت سارے لوگوں کو پسند ہیں۔ اگر آپ ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو کتابیں پڑھیں، کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں ہے یا میری طرح جاہل ہیں تو فیس بک پر جا کر ویڈیو دیکھیں، یوٹیوب (YouTube) پر جائیں اور ان کی کہانی دیکھیں۔ کیا آپ ایدھی صاحب جیسا بننا چاہتے ہیں؟ اگر آپ خاتون ہیں آپ تو بلقیس ایدھی بن جائیں۔ بلقیس ایدھی کی ویڈیوز دیکھیں کہ وہ خاتون بلقیس ایدھی کیسے بنیں؟اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہیں سوتن بھی قبول کرنی پڑی۔
تو آپ بھی ایدھی صاحب سے ان کی زندگی سے اور تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان سے ملنے چلے جائیں اور ان سے پوچھیں ’’ایدھی صاحب ہم ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟‘‘ ان کا جواب ہوگا ’’انسان بن جاؤ‘‘۔ اور انسان بننے کی نصیحت کا مطلب مجھے بہت دن بعد سمجھ میں آیا اور وہ یہ کہ آپ خود کو ٹھیک کر لیں۔

غلطی کریں، سیکھیں اور آگے بڑھیں
ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم سوائے ٹی وی ڈراموں کے کچھ نہیں دیکھتے۔ اس مسئلہ کا حل بھی میرے پاس موجود ہے۔ ted.com ایک زبردست چیز ہے، وہ دیکھیں۔ کیا آپ نے 3 Idiots فلم دیکھی؟ اگر ہاں تو آپ بھی idiot بنیں۔ کیا آپ نے آئی فون اور آئی پیڈ بنانے والی کمپنی کے سابق صدر اسٹیو جابز ( Steve Jobs) کی وہ تقریر دیکھی ہے جو اس نےStanford یونیورسٹی میں کی تھی؟ اگر نہیں دیکھی تو یوٹیوب پر جائیں اور ضروری دیکھیں:( http://youtu.be/Hd_ptbiPoXM)۔اس نے بارہا کہا ہے کہ بڑا سوچو، غلطیاں کرو۔ کیونکہ جب تک آپ غلطی کرنے کی طاقت اپنے اندر پیدا نہیں کریں گے تب تک آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اگر ایک بچہ رینگ رینگ کر چلنے سے ڈرے، لڑکھڑا کر چلنے کے بجائے یہ سوچے کہ میں چلوں گا ہی نہیں کیونکہ میں لڑھک جاؤں گا تو وہ کبھی نہیں چل سکے گا۔
تو آپ جتنے چاہیں آئیڈیاز پر کام کرسکتے ہیں۔ مجھ میں اور دوسرے بہت سارے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ میں دوسرے کے پاس جاتا ہوں اور ان کے لیے کچھ اچھا کرنے اور کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس سے ان کا بھلا ہوسکے۔
یہاں دو فلمیں دیکھنے کا مشورہ دوں گا کہ جنہوں نے مجھے بہت زیادہ سیکھا۔ ایک ہے
In Time اسے دیکھیں۔ یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں پیسہ بہت ہے لیکن غیر مستحکم (unstable) ہے۔ دوسری فلم کا نام ہے Patch Adams اس کو دیکھیں۔اس نے مجھے زیادہ inspireکیا۔

1 ملین بزنس کا تعارف
کیا آپ کو 1 ملین بزنسز (1 Million Businesses) کے بارے میں معلوم ہے؟ اگر نہیں معلوم تو کوئی بات نہیں، میں یہاں بتا دیتا ہوں۔ میرے پاس ایک آئیڈیا آیااور آئیڈیا اس طرح سے آیا کہ میں اپنے والد صاحب کی دکان پر گیا وہاں ایک صاحب موجود تھے جو 25 سال سے بینک سے متعلق سارا کام کرتے تھے۔ وہ بالکل دبلے پتلے سے ہیں اور دماغ کے تھوڑے نرم۔ تو میں نے جا کر ان کوگلے لگایا اور جب میں نے آہستہ سے ان کی کمر پر ہاتھ پھیرا تو مجھے اپنا ہاتھ ان کی ریڑھ کی ہڈی پر محسوس ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ یار جان وان بناؤ تو اس نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے ہیں؟ توانہوں نے کہا کہ تین miscarriage ہوگئے۔ تو میں نے کہا کہ آپ کی بیگم بھی ایسی دبلی پتلی تو نہیں ہیں؟ کہنے لگے آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ یہاںآپ کی تنخواہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے 10 ہزار ملتے ہیں اور میں یہاں 25 سال سے کام کر رہا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میں ان کو کیا جواب دوں؟ کیونکہ آخر میں قصوروار میں خود ہی ہوں گا کہ جو ان کو اتنی تنخواہ دیتا ہے۔
آپ کے گھر میں ماسیاں ہوں گی، چوکیدار ہوں گے تو آپ ان کو 20 ہزار روپے تنخواہ نہیں دیں گے۔ کوئی دینے والا ہے؟ نہیں دے سکتے۔کیونکہmarket rate ہی نہیں ہے۔ میں اور بھی لوگوں کو دیکھتا تھا جو کم اجرت میں مزدوری کرتے تھے تو ہم نے سوچا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم کیوں کچھ نہیں کرسکتے؟ یہاں سے 1 ملین بزنسز کا خیال ذہن میں آیا۔
میری کمپنی سُپر ٹیکنالوجیز کا ارادہ ہے کہ تین سال کے عرصے میں 1 ملین بزنسزبنانے ہیں۔ بزنس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیا کاروبار کرنا ہے، کس طرح کرنا ہے اور اسے کامیاب کیسے بنانا ہے۔ اس کے لیے زیادہ عرصہ درکار نہیں ہوگابس ایک مختصر وقت میں ہی آپ اپنا کاروبار کرسکیں گے۔ پھر ان کی ویڈیوز بنائیں گے اور ان تمام لوگوں کے لیے دستیاب (available)کردیں گے جو اپنا کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کام کو انجام دینے کے لیے ہمیں 10 ہزار افراد چاہئیں۔
اب آپ بتائیں کیا آپ سچ مچ کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ دیکھیں جب تک اپنا وژن (vision) نہیں بڑھائیں گے کچھ نہیں ہوگا۔ گاڑی میں بیٹھ کر ناظم آباد جانا ہے یا کلفٹن جانا ہے کچھ پتہ ہی نہیں ہے تو کہاں جائیں گے؟ اگرگاڑی لے کر نکل بھی گئے تو long drive نہیں ہوگی بلکہ گدھوں کی طرح اور کولہو کے بیل کی طرح گول گول چکر لگاتے رہیں گے اور کہیں نہیں پہنچیں گے۔ کسی مقام پر پہنچنا ہے تو اپنے سامنے vision رکھیں۔ کامیاب نہیں ہوگا تو کیا ہوگا ؟ زیادہ سے زیادہ آپ تھوڑا سا گر جائیں گے ۔ کوئی آپ کو پکڑ کر مارے گا تو نہیں ناں۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ اگلی دفعہ آپ اس سے اچھا کریں گے۔ ہم نے بھی دو تین سو کاروبار خراب کیے ہیں تو جا کر یہ آئیڈیا ہوا ہے کہ کاروباری کرتے کیسے ہیں؟ کیونکہ اسکول تو گئے نہیں تھے اور ٹیچرز نے بتایا ہی نہیں تھا۔

دوسروں کے ساتھ شیئر کریں
مجھے بہت خوشی ہوتی جب میں بڑی بڑی یونیورسٹیز کو دیکھتا ہوں اور مجھے پوری امید ہے کہ ہم اپنا علم دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر (share) کر کے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم سے پہلے والے لوگ اپنا علم ہم سے شیئر نہیں کرتے تو آج ہمارے پاس کتابیں نہیں ہوتیں۔ اگر وہ شیئر نہ کرتے تو جو علم لوگوں نے کتابوں میں لکھا ہے وہ آج ہمارے پاس نہ ہوتا۔ تو شیئر کرنے کا ہنر سیکھیں۔ اگر آپ کے پاس دو روپے ہیں تو ایک روپیہ شیئر کریں کیونکہ جو چیز آپ دیں گے وہ آپ کو ضرور بالضرور واپس ملے گی۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں۔ اگر میں قہقہہ لگاؤں تو آپ بھی قہقہہ ماریں گے اور اگر میں آپ کو آج محبت دوں گا توآپ آئندہ مجھے محبت دیں گے۔ لیکن اگر میں آپ کے ساتھ بدتمیزی کروں توآپ بھی مجھ سے بدتمیزی کریں گے۔ اگر آپ روڈ کراس کر رہے ہیں اور کسی گاڑی والے سے ایسے کہیں کہ یار پلیز جانے دو! تو وہ گاڑی روک کر آپ کو کہے گا کہ پلیز جاؤ۔ اگر آپ کھڑوس بن کر روکھے انداز میں کہیں گے کہ ٹھہرجاؤ! میں یہاں سے گزر رہا ہوں تو وہ کہے گا تمہاری ایسی کی تیسی۔
آرشمیدس نے کہا تھا کہ مجھے ایک بہت بڑا ڈنڈا دے دو تو میں پوری دنیا کو اپنے ہاتھ سے ہلا سکتا ہوں۔ تو اس سے پتا چلتا ہے کہ ڈنڈا ضروری ہے۔ تو آج کل کا جو ڈنڈا ہے وہ آپ کی جیب میں موجود موبائل فون ہے۔ ہر گھر میں کمپیوٹر نہیں ہے لیکن انٹرنیٹ کیفے ہر محلے میں موجود ہے۔ 20 روپے گھنٹے کے لگتے ہیں، آپ دو گھنٹے ماسی کو لے جا کر بٹھا دیں تو کیا وہ سیکھ نہیں سکتی؟ کیا اللہ نے اسے کان اور آنکھیں نہیں دیں؟ اگر دیئے ہیں تو وہ بالکل سیکھ سکتی ہے۔ آپ ہر محلے میں اسکول کے بجائے کیفے کو بزنس بنائیں اور اس سے کاروبار بنائیں کیوں کہ مفت میں کسی کو کوئی چیز دیں تو اس کی کوئی قدر نہیں کرتا۔
یہاں ایک اور بات بتاتا چلوں کہ کوئی بھی آئیڈیا سیکرٹ (secret) نہیں ہوتا۔ جو بھی چیز آپ کے دماغ میں آرہی ہے وہ آپ کسی سے لیتے ہیں۔ پھر آپ دو چیزوں کو ملا کر نیا آئیڈیا بناتے ہیں۔ جیسے نہاری بنانے کے لیے سالن میں مصالحہ ڈالتے ہیں، اسے گھولتے ہیں اور نہاری بنالیتے ہیں۔
آپ کو بہرحال اپنا آئیڈیا شیئر کرنا چاہیے۔ کسی نے اگر روٹی بنانے کا طریقہ شیئر نہ کیا ہوتا یا اسے پیٹنٹ (patent) لگایا ہوتا تو آج ہم خمیری روٹی اور بریڈ نہیں کھا رہے ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ میں سند حق محفوظ کردینے کے خلاف ہوں۔

Grand parents کو اڈاپٹ کریں
جب پہلی بار میں تعلیم بالغان دیکھ رہا تھا تو مجھے ایک بہت اچھی بات لگی۔ آپ grand parents گود لے لیں یعنی adopt کرلیں۔ لوگ بچے گود لیتے ہیں لیکن آپ grand parents گود لے لیں۔ grand parents گو د لینے کے لیے اب ٹویٹر اور فیس جیسے اوزار آگئے ہیں۔ آپ فیس بک پر جائیں اور اسٹیو وزنیاک (Steve Wozniak) کو ڈھونڈیں۔ انہیں Add Friendیا Follow کرلیں۔ اسٹیو وزنیاک جیسے اور بہت سارے لوگوں کو فیس پر دوست بنائیں یا ان کو follow کریں۔ اگر ان کے پاس follow کا آپشن نہیں ہے تو ان کو میسیج کریں کہ:
Hello, My name is Lubna, I am a student from Pakistan, I saw your profile and many interesting things to learn from it. I would love to be your Facebook friend if you find it appropriate. Thank you again, and apologize for this intrusion in advance. Lot’s of respect, appreciation and love from Pakistan
اس کے بعد کیا ہوگا؟ 90 فیصد امکان ہے کہ وہ آپ کو بطور دوست add کرلیں گے یا پھر جواب دیں گے۔ مجھے اگر آپ فیس بک کی request بھیجیں گے اور آپ کی پروفائل پر تصویر نہیں ہوگی تو میں آپ کو ایڈ نہیں کروں گا۔
اس کے بعد میں نے جن لوگوں کو subscribeکیا ہوا ہے، آپ بھی ان لوگوں کو subscribeکرسکتے ہیں۔ اسی طرح ایسے لوگ جن سے آپ بہت زیادہ متاثر ہیں یا وہ آپ کو پسند ہیں ان کی فیس بک پروفائل یا صفحے پر جائیں ان کو Followکریں اور انہوں نے جن کو Followکیا ہوا ہے آپ بھی ان کو Followکریں۔

اپنے اہداف (goals) لکھیں
کیا آپ نے اہداف (goals) بنائے ہیں؟ کہ آپ نے اگلے دس سالوں میں کیا کچھ کرنا ہے؟ کسی کو شادی کرنی ہے؟ کسی کو بچے چاہئیں؟ تو آپ نے جو بھی اہداف سوچے ہیں ان کو لکھیں۔ یوٹیوب پر میری ایک ویڈیو ہے “How to become rich very quickly” اسے ضرور دیکھیں۔ وہ اہداف کا تعین کرنے ہی کے بارے میں ہے۔ جب آپ اپنے اہداف لکھ لیں گے تو یقین کیجیے سب پر خود بخود عمل ہونا شروع ہوجائے گا۔ تو براہ مہربانی اپنے وژن (vision) کو وسیع کریں، اسے بڑھائیں اور بڑا سوچیں۔
ہم سب اس ملک میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یار تبدیل کرے کون گا؟ میرا مشن (mission) ہے کہ اس ملک میں تین سال کے بعد تیس ہزار سے کم آمدنی کسی کی نہ ہو۔ اور یہ کیسے ہوگا؟ یہ ایسے ہوگا کہ جب آپ سب اس کے لیے میری مدد کریں گے، آپ نے مدد پیسوں سے نہیں کرنی ہے بلکہ اپنے موبائل فون اور فیس بک سے کرنی ہے۔ یہ دورحاضر کے سب سے بڑے اور اہم ترین change makersہیں۔

فیس بک پر فالو کریں
اگر آپ ابھی تک فیس بک پر نہیں ہیں تو آج ہی اپنی پروفائل بنائیں۔ وہاں اپنی ایک تصویر لگائیں، لوگوں کو بتائیں کہ آپ ایک طالب علم ہیں اور یہاں پڑھتے ہیں یا پڑھتی ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور پردہ کرتی ہیں تو آپ پردے میں فوٹو لگائیں۔ تاکہ ان کو پتا ہو کہ فیس بک پر ninjas بھی ہوتے ہیں۔ اور نقاب میں تصویر لگانے سے بالکل نہ گھبرائیں۔ میری امی بھی ہیں فیس بک پر اگر چاہیں تو آپ ان کو بھی ایڈ کر لیں۔ ان کا نام ہے منور اخلاص اللہ والا۔ جو لڑکیاں اور خواتین ninjas ہیں وہ بھی addکرلیں۔ نقاب والی فوٹو لگائیں تا کہ ان کو پتہ چلے کہ نقاب والے حقیقت میں ہوتے ہیں۔ پھر وہ آپ سے سوال کریں گے۔ جب تک آپ ان کو بتائیں گے نہیں تو ان کو کیسے علم ہوگا کہ آپ ninja نہیں ہیں بلکہ ایک اچھی مسلمان عورت ہیں جو اللہ کے حکم کے مطابق پردہ کرتی ہیں اور یہ کہ آپ پر نقاب کرنے کے لیے کسی نے بھی ڈنڈا نہیں مارا۔
جب 9/11 کا واقعہ ہوا تو میں اور میری اہلیہ امریکی ریاست پنسلوینیا میں تھے۔ اس واقعے کے بعد میں نے اپنی اہلیہ کو کہا کہ نقاب نہ کرو کیوں کہ کسی نے دیکھا تو گولی مار دے گا۔ کیونکہ امریکا کے اس علاقے میں کوئی جانتا ہی نہیں تھا کہ نقاب بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ تو اصل میں یہ غیر ذمہ داری ہے اور ہمارا کام یہ ہے کہ اگر ہم اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہیں تو دوسروں کو بتائیں کہ ہم حق پر ہیں۔ اور یہ سمجھانے کے لیے آپ کو دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنا موقف شیئر کرنا پڑے گا۔

ریحان کیفے کیا ہے؟
کیا آپ پٹھان کے ڈھابے یا کسی دکان پر چائے پینے جاتے ہیں؟ کبھی آپ نے سوچا پٹھان والی دکان پر وائی فائی (WiFi) کی سہولت موجود ہو تو کیسا رہے گا؟ کیا خیال ہے پھر؟ کون کھولے گا؟ ارے یار آپ کرنے کو تیار ہو ں اور اپنے کیفے کا آئیڈیا بنائیں۔ مثلاً جتنے پٹھان بھائی ہیں ان کی دکان کو ہم تبدیل کردیں۔ اگر کوئی ڈیزائنر لڑکی یا لڑکا ہے وہ چائے کی دکان کو اپنے ڈیزائنز سے بھردے۔ آپ اپنے محلے کی ایک دکان کو adopt کریںیعنی اسے اپنائیں۔ اس کے بعد اگر وہ چائے یا برگر والا ہے ، جس بے چارے نے زندگی میں کبھی فیس بک کا نام نہیں سنا، تو آپ اس کی فیس بک آئی ڈی بنائیں اور اس کو اپنا دوست بھی بنائیں۔ بھول جائیں کہ وہ جاہل ہے۔ سب سے پہلی چیزیہی ہے کہ بھول جائیں کہ وہ جاہل ہے۔
ایک اور صاحب ہیں اقبال ٹرینر۔ ابھی آپ ہورڈنگز دیکھ لیں، ہم شہر بھر میں لگوا رہے ہیں، وطین کے نئے اشتہارات میں اقبال ٹرینر۔ یہ چائے بناتے تھے اور اب وہ لوگوں کو فیس بک چلانا سکھاتے ہیں۔ یہ سب کیسے ہوا؟ صرف چار ماہ میں۔ اس کے لیے کوئی پانچ سال کا عرصہ نہیں لگاصرف چار ماہ لگے۔ آپ ان کی بھی ویڈیوز یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ کہانیاں ہیں جو ہمارے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں۔ جنہیں آپ تبدیل کرکے بہتر بناسکتے ہیں۔
اب میں یہ کرتا ہوں کہ جس کے پاس بھی جاؤں مثلاً بریانی والوں کے پاس گیا ان سے پوچھا کہ آپ نے کاروبار کیسے شروع کیا۔ پھر اس گفتگو کا مغز نکال کر اس سے سیکھتا ہوں۔ میں دنیا کے 50 ملک دیکھ چکا ہوں، میرے پاس بہت سارے آئیڈیاز ہیں جو میں نے دنیا بھر میں دیکھے۔ اب اسی کو دیکھتے ہوئے میں ایسے اسٹارٹ اپس (startups) بنانا چاہتا ہوں جو تبدیلی لا سکیں۔ تو آپ کو ریحان کیفے میں بہت اچھی چائے ملے گی انشاء اللہ اور وہاں بالکل مفت وائی فائی بھی ہوگا۔
ہم لوگوں کے پاس جا رہے ہیں۔ مثلاً خان بھائی کے پاس جائیں گے ان سے طریقے پوچھنے کہ آپ نے کیسے کیا؟ پھر ہم ان کوسمجھانے کی کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ اس میں نئی چیزیں بھی شامل کرسکتے ہیں۔ یہ سب سے مشکل کام ہے۔ جس طرح آپ کی امی نہیں مانتیں اور ابا نہیں مانتے اسی طرح خان بھائی بھی نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں چلو ٹھیک ہے ہم یہاں ٹی بیگ کے پیکٹ رکھتے ہیں لیکن وائی فائی کیوں لگائیں؟ اس کے علاوہ ہم نام بھی نہیں بدلیں گے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان چائے خانوں کا نام ہونا چاہیے وطین کیفے، زونگ کیفے وغیرہ۔ اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ میں ایسا کیوں چاہتا ہوں۔
آپ ای میل چلاتے ہیں جیسے جی میل وغیرہ۔ وہ بغیر کوئی پیسے دیے بالکل مفت چلاتے ہیں۔ لیکن آپ چائے کے پیسے کیوں دیتے ہیں؟ کیا جی میل کے سرور پر خرچ نہیں آتا جو وہ آپ کو مفت سہولیات دیتا ہے؟ تو یہی انتظام چائے کے لیے بھی ہوسکتا۔ ہمیں بس اس کا طریقہ کھوجنا ہے۔ اگر کوئی کراچی میں بغیر کسی قیمت کے انٹرنیٹ فراہم کرسکتا ہے تو آئے اور ہمارے ساتھ کام کرے۔

خان اکیڈمی کا تعارف
پچھلے چھ مہینے سے میں کوئی ترکیب سوچ رہا تھا کہ یار یہ 1 ملین بزنسز کا ٹارگٹ کیسے پورا ہوگا؟ کیونکہ ملین بہت سارے ہوتے ہیں۔ کتنے زیرو ہوتے ہیں؟چھ! یعنی بہت سارے۔ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ بول تو دیا لیکن اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے کرنا ہے؟
پھر میں نے خان اکیڈمی (Khan Academy)کو دیکھا۔ کیا آپ کو معلوم ہے خان اکیڈمی کیا کرتی ہے؟ خان اکیڈمی میں ایک سلمان بھائی ہیں۔ سلمان بھائی نے تین سال میں ڈھائی سو ملین لوگوں کو پڑھایا ہے۔ کیا آپ پڑھانا چاہتا ہے ڈھائی سو ملین کو؟ اگر آپ چاہیں تو کوئی بھی چیز پڑھا سکتے ہیں۔
آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانا ہے تو گاڑی میں جائیں یا گدھا گاڑی میں جائیں، پہنچ تو جائیں گے۔ لیکن آپ کو اپنی منزل کا علم ضرور ہونا چاہیے۔ تو سلمان بھائی نے 17 منٹ کی ایک ویڈیو بنائی۔ اسے دیکھنے کے لیے آپ یوٹیوب پر جائیں اور لکھیں khan academy ted پھر جو ویڈیو نظر آئے اس پر کلک کریں۔ جو لوگ بھی ted.com نہیں دیکھتے، ان سے بار بار گزارش کروں گا کہ بھائیوں اور بہنوں پلیز دیکھنا شروع کرو اور اپنے دماغ کو استعمال کرنا شروع کرو۔
خیر، خان اکیڈمی نے صرف تین سال میں ڈھائی سو ملین لوگوں کو پڑھایا۔ تو میں نے کہا یار کوئی اگر ڈھائی سو ملین کو اس طرح پڑھا سکتا ہے تو میں بھی مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تو اس کو شروع کرنے کے لیے میں نے سوچا کہ جو بھی رشتہ دار یا دوست ملے گا میں اس کو پکڑ لوں گا اور کہوں گا کہ یار ذرا بیٹھو یہاں پر مجھے یہ کرنا ہے۔ اب جیسے آپ لوگوں نے کہا کہ میں ایک کامیاب شخص ہوں تواس کی واحد وجہ یہ ہے کہ میں بہت زیادہ سوالات کرتا ہوں۔ میں فیس بک پر سوال کرتا ہوں، میں ٹویٹر پر سوال کرتا ہوں غرض کہ جو بھی میرے آس پاس موجود ہے میں ہر ایک شخص سے سوال کرتا ہوں۔ اگر میں یہاں بیٹھے ہوئے چار سو لوگوں سے پوچھوں کہ ہرے رنگ کی قمیض کیسی لگ رہی ہے؟ تو مجھے پتہ چلے کہ اجتماعی طور پر (collective brain power) لوگ یہ کہہ رہے ہیں۔ مطلب زیادہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ چیزاچھی لگ رہی ہے یا بری۔ یہ وہ چیز ہے جو آپ فیس بک پر بھی کرسکتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو آپ ٹویٹر پر بھی یکرسکتے ہیں۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے آپ لوگوں کی رائے جان سکتے ہیں۔ ہمارے آس پاس موجود سب سے محترم رائے والدین کی ہوتی ہے تو ہمیں اس کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔

فیس بک کے ذریعے لوگوں کو جوڑیں
اگر آپ اپنے استاد کو یہ بتائیں کہ محترم یا محترمہ! آپ ہمیں انجینئرنگ پڑھا رہے ہیں تو میں نے Stanford، Harvard اور xyz کے پروفیشنل استاد نکالے ہیں اور ان کا ایک گروپ بنایا ہے۔ میں چاہوں گا کہ فیس بک کے ذریعے آپ کو ان سے connect کروا دوں۔ اب آپ مجھے بتایئے کہ دنیا کے بہترین اساتذہ آپ کے استاد کے دوست ہوں تو اس کا کیا اثر پڑے گا؟ آپ کا استاد کیسا ہوجائے گا؟ اچھا ہوجائے گا ناں! تو پھر کون کہے گا کہ اساتذہ خراب ہیں؟ استادوں کو اچھا کرنے کی ترکیب یہی ہے۔ اپنے اساتذہ کے بہت سارے اچھے دوست بنا دیں۔ کیا ہوجائے گا کسی استاد کو؟ کچھ ہو یا نہ ہو استاد ضرور اچھا ہوجائے گا۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔
تو میں یہ کرتا ہوں کہ ہر کسی سے سوال پوچھتا ہوں چاہے وہ امیر ہے، غریب ہے، چھوٹا ہے یا بڑا ہے۔ یہ بات میں نے ہوائی جہاز میں سفر کے دوران سیکھی تھی۔ میں ایک شخص کے ساتھ سفر کر رہا تھا تو اس نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کو کیسے علم ہوگا کہ یہ لکڑ ہاڑا آپ سے زیادہ عقل مند ہے یا نہیں؟ تو آپ ہر کسی سے سوال کرسکتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کیونکہ ہر ایک آپ کو مختلف رائے دے گا۔
میرے ایک دوست ہیں عطا اللہ۔ وہ اکثر ناراض ہوجاتے ہیں کہ یار اتنے دوست کیوں بھیجتے ہو میرے پاس؟ تواس کی وجہ یہ ہے کہ میں انہیں دنیاکے بہترین ٹرینر (trainer) کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہوں تاکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور وہ دنیا کی بہترین شخصیت بن جائیں۔ اگر آپ کی youth ministerکے پاس دنیا کے سارے youth minister فیس بک پر اور لنکڈان پر add ہوں تو کیا ہوگا؟ کسی کو شکایت کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔
ترقی یافتہ ممالک میں ایک عام سا بھنگی پانچ لاکھ روپے مہینہ کماتا ہے۔ یہ میں بالکل مذاق نہیں کر رہا۔ آپ میں سے کتنے لوگ پانچ لاکھ روپے ہر مہینے بناتے ہیں؟ جائیں اور جاکر ان بھنگیوں سے پوچھیں بھائی بھنگی تم کیسی صفائی کرتے ہو کہ جس صفائی کے لیے ہمارا بھنگی تو پانچ ہزار روپے لیتا ہے، بہت زیادہ ہوا تو 50 ہزار روپے کمالے گا لیکن یار آپ کیسے پانچ لاکھ روپے مہینے میں کمالیتے ہو۔
تو آپ کسی کو بھی گود لے لیں، اس کی فیس بک پر آئی ڈی بنائیں اور پھر اسی کے جیسے لوگوں سے اس کو جوڑ دیں۔ بھئی ماسی ہے ناں؟ امریکا میں اسے میڈ (maid) کہتے ہیں، وہ فرانس میں بھی ہوتی ہے اور وہ انگلستان میں بھی ہوتی ہے۔ تو ان سب ماسیوں کا ایک گروپ بنائیں جیسے ماسی آن لائن وغیرہ اور انہیں آپس میں جوڑ دیں۔

مجھے کیا چاہیے؟
تو بات یہ ہے کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میں صرف تین سال میں ایک ملین کاروبار بنانا چاہتا ہوں۔ اگر مجھے پتہ ہو کہ تین سال بعد میں اس دنیا سے چلا جاؤں گا تو میں زندگی کا ہر لمحہ بہتر کام میں لگاؤں گا اور میں اسی کی کوشش کر رہا ہوں۔میں کوشش کرتا رہوں گا اور یہ تب تک کرتا رہوں جب تک میں زندہ ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اس سے بہت فائدہ ہوگا۔
ہوسکتا ہے 99 فیصد لوگ جو میرے منصوبے کے متعلق جانتے ہیں اور میری ہاں میں ہاں بھی ملائیں گے۔ لیکن مجھے صرف ایک فیصد کی تلاش ہے جوتبدیل کرنا چاہتے ہوں۔ تو میں یہاں پر آج آپ سے اس لیے مخاطب ہوں کہ مجھے ایسے لڑکے لڑکیاں چاہئیں جو اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہوں۔ جو یہ نہ کہیں کہ جناب یہ لیں 10 ہزار روپے ہمیں بزنس اسٹارٹ کرنا ہے،ایسا کوئی سین نہیں ہے۔10 ہزار روپے کی مکمل سرمایہ کاری (investment) ہے۔ یہ نہیں کہ آپ پیسے دیں کہ ابھی ایک کاروبار آپ شروع کرلیں۔ ہوسکتا ہے پہلے تین مہینے میں دس ہزار روپے خرچ ہوںیا ہوسکتا ہے چار مہینے میں خرچ ہوں۔کیونکہ اس میں تنخواہ والا چکر نہیں ہے۔ یہ آپ کا اپنا کاروبار ہوگا، آپ کی ماسی کے لیے ہوگا، آپ کے ملک کے زمیندار کے لیے ہوگا۔ کل میرے سامنے ایک عورت تقریباً مری ہے ۔اس کا بیٹا چار مہینے سے جہاں ہے وہیں کا وہیں ہے۔ وہ مجھ سے گڑ گڑا کر مانگ رہا تھا۔ میں اس کو کیش دے کر چھوڑ کر آیا ہوں کہ جہاں تم ہو وہی رہو اور اس کو بھی ساتھ لے جاؤ۔ میں نے کہا اپنا نمبر دے دو یار، میں تمہیں کس طرح کال کروں تو اس نے بتایا کہ میرے پاس فون ہی نہیں اور میں نے سم بھی 25 روپے کی بیچ دی کیوں کہ مجھے کھانا چاہیے تھا۔ تویہ ملک کیسے تبدیل ہوگا؟ ہم کیسے یہاں تبدیلی لائیں گے؟ جب تک ہم چیزوں کو ٹھیک طریقے استعمال نہیں کریں گے تب تک تبدیلی نہیں لاسکتے۔آپ کا موبائل بہت طاقتور ہے سب سے پہلے اس کواستعمال کریں۔
ہمیں ایسی لڑکیاں بھی چاہئیں جو کہ پردہ دار ہوں یا غیر پردہ دارہوں۔جو لڑکیاں ہماری اماؤں، نانیوں اور دادیوں کو جا کر موبائل فون چلانا سکھا دیں۔ ایک آنٹی کو سکھانے کے۔ ہزار روپے ملیں گے۔ تیس آنٹیاں کو سکھا دیا تو کتنے پیسے ہوگئے؟ تیس ہزار۔ صرف ایک، ایک گھنٹے کے لیے پورے ہفتے میں دو دن جانا ہے۔ کیا لڑکیاں کرسکتی ہیں؟ اگر ہاں تو تیس ہزار روپے مہینہ بنا لیں۔ لوگ کہتے ہیں پیسے نہیں کماسکتے لیکن اب تو یہ آسان ہوگیا ہے۔ آپ اپنے اماں ابا سے پیسے لینا چھوڑ دیں اور خود کمائیں۔ ریحان ٹریننگ کی ویب سائٹ rehantraining.com پر جا کر آپ سیکھ سکتے ہیں کہ ٹرینر (trainer) کیسے بننا ہے۔ وہاں تمام کورسز دستیاب ہیں جو آپ نے کرنے اور کروانے ہیں۔ ان سب کو facebook چلانا سکھائیں جن کو اس کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔
کراچی یونیورسٹی میں بہت سارے طالب علم صومالیہ سے آئے ہوئے ہیں اور صومالیہ میں میری کمپنی کے بہت سارے کسٹمرز (customers) ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں موجود صومالی طالب علم مجھے صومالیہ کے بہت سارے لوگوں سے ملوا دیں۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں اور جو کچھ یہاں بیان کر رہا ہوں وہ سب میں ان کو بھی بتاؤں گا۔ کیونکہ وہ بہت زبردست لوگ ہیں اسی لیے مجھے ان سے بہت پیار ہے۔ ہم ان کو کھانا نہیں دینا چاہتے بلکہ ان کو ہنر دینا چاہتے ہیں کہ وہ جائیں اور جا کر اپنے ملک کو خود ٹھیک کریں۔
اپنی ویڈیو بنائیں
جتنی چیزیں آپ سیکھ چکے ہیں اس کی آج اور ابھی صرف تین منٹ کی پیاری سی ایک فلم بنائیں۔ جو اچھی سی ویڈیو بنا کر مجھے بھیجے گا، اس کو ہزار روپے انعام اور ایک جادو کی جھپی ملے گی۔ کیوں؟ وہ اس لیے کہ لوگوں کے پاس دیکھنے کے لیے بہت ساری چیزیں جن میں سے اکثر بالکل فضول ہیں۔ میں اسی لیے کہتا ہوں کہ ٹی وی دیکھنا بند کردیں کیوں کہ یہ صرف اور صرف سر کا درد ہے۔ ٹی وی کو بند کردیں اور ted.com کے عاشق بن جائیں۔ اپنے دماغ کو کھولیں، سیکھیں اور کام کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ٹی وی دیکھنے سے بہتر ہے یوٹیوب پر جا ئیں اور اچھی اچھی چیزیں دیکھیں۔
جس جس کے پاس بغیر کیمرے والا فون ہے وہ میرے پاس جمع کرادے اور 15 سو روپے میں نیا موبائل خریدلے۔ سستا موبائل خریدیں بس اس میں ویڈیو ریکارڈ ہونی چاہیے۔ جہاں مسئلہ نظر آئے اس کی ویڈیو بنائیں اور یوٹیوب یا فیس بک پر جائیں اور ویڈیو شیئر کریں۔ لوگوں سے کہیں کہ بھائیوں اور بہنوں یہ مسئلہ ہے، اگر کوئی اس کو حل کرنے والا ہے تو بتاؤ میں کیسے اس کو حل کروں۔ جب آپ کے دوستوں میں بہت سے امریکی ہوں گے، فرانسیسی ہوں گے یا دوسرے ممالک سے ہوں گے تو وہ سب آپ کو مسئلہ حل کرنے کے لیے مشورے دیں گے۔
تو آج سے یہ تہیہ کرلیں کہ دل کے اندر خواہش رکھ کر نہیں بیٹھنا۔ آپ نے اپنا موبائل نکالنا ہے، گھمانا ہے اور ویڈیو بنانی ہے۔ جن کے پاس ویڈیو والا موبائل ہے وہ ابھی نکالیں۔ کیمرہ کھول لیں اور اپنی ایک چھوٹی سے ویڈیو بنائیں۔
میری بیٹی 3 یا 4 سال کی تھی۔ اس کی ویڈیو یوٹیوب پر 1 لاکھ 50 ہزار دفعہ دیکھی جا چکی ہے۔ اس میں صرف ایک نظم (poem) ڈالی تھی اور پھر اس کے نام 1لاکھ 50 ہزار روپے کا چیک بھی آگیا۔ کیونکہ یوٹیوب پر آپ کی جو بھی ویڈیو چلتی ہے اس کاایک روپیہ آپ کو ملتا ہے۔وہ کیسے ملتاہے؟اس کے لیے بھی rehantranining.com پر کورس موجود ہے تو آپ چاہیں تو وہاں سے سیکھ سکتے ہیں۔
اپنا Video Resume بنائیں۔ ہمارے ادارے میں نوکری کے لیے اگر کسی کو درخواست دینی ہوتی ہے تو اس کو Video Resume بھیجنا ہوتا ہے۔ ہم ای میل میں ویڈیو نہیں لیتے۔ ہمارے پاس نوکری کی درخواست دینے کا طریقہ ہے کہ آپ اپنی ویڈیو بنائیں اور اسی میں باقی تفصیلات بھی بتائیں۔ جیسا کہ:
“السلام علیکم! میرا نام یہ ہے اور میں یہ کرتی ہوں۔ میرے فیس بک فرینڈز یہ ہیں اور مجھے یہ کام کرنے کا جذبہ ہے۔ میں نے اس کے لیے یہ پڑھا اور آپ کی بہت مہربانی ہوگی اگر میں آپ کی کمپنی میں جاب کرلوں۔ ”
ویڈیو بنا کر آپ نے اسے یوٹیوب پر اپلوڈ (upload) کرنا ہے پھر اس کو فیس بک پر لگانا ہے اور اپنے چار دوستوں کو کہنا ہے کہ اس پر comment کریں اور سچ سچ بتائیں کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں یا ٹھیک بتا رہا ہوں۔ اس طرح ہم نوکری کی درخواست قبول کرتے ہیں۔ اگر آپ میں ویڈیو بنانے کا حوصلہ نہیں تو ہم شاید آپ کو اپنے ادارے میں نہیں رکھیں گے۔ یہ اصول سب کے لیے ہے۔
ایک بار ہمارے آفس میں آنے کے بعد آپ کو 250 فلمیں دیکھنی ہوں گی۔ ایک منٹ کی ایک فلم ہوتی ہے۔ اس فلم میں ہوتا ہے کہ چائے کا سامان یہ ہے، چائے کی پیالی ایسے دھونی ہے، چائے واپس کیسے رکھنی ہے، گھنٹی کیسے بجانی ہے غرض کہ ہر ہر چیز کی ویڈیو ہے۔ 250 منٹ کا مطلب صرف 4 گھنٹے ہوتا ہے۔ لیکن وہ چار مہینے تک جو میرا دماغ خراب کرتے ہیں میں اس سے بچ جاتا ہوں۔ آپ کی ماسیاں ہیں گھر میں؟ ان کے لیے فلمیں بنا دیں اور پھر اس کو دکھائیں کہ ایسے صفائی ہوتی ہے۔ اپنی فلمیں بنا کر اس کو دکھا دیں کہ ’’ماسی جی! اس طرح سے صفائی کرانی ہوگی۔‘‘ ماسی کو سستا سا موبائل دلوادیں یار اب تو بہت موبائل بہت کم قیمت ہوگئے ہیں۔ لیکن اگلی ماسی آئے گی توآسانی ہوگی ناں۔ پھر یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ آئے ہائے یہ تو نئی ماسی آگئی اس کو تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ تو اس سے بچنے کے لیے ماسی ویڈیو کو کہیں کہ آرام سے یہاں پر بیٹھ جاؤ اور ویڈیوز دیکھتی رہو سارا کام سمجھ آجائے گا۔
چلیں ایک مثال بھی دے دیتا ہوں۔ یوٹیوب پر جائیں اور وہاں ایک ویڈیو دیکھیں: “Sugata Mitra & The Hole In the Wall” اس کو دیکھیں۔ ایک صاحب ہیں Mr.Mitra انہوں نے ان پڑھ لوگوں کے علاقوں میں دیواروں پر کمپیوٹر لگانا شروع کردیے۔ ڈیڑھ سال کے اندر وہاں سے لوگوں کو ای میل (email)آنا شروع ہوگئیں۔اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ آپ خود جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے یہ سب کیسے کیا۔ وہ میرے پاس فیس بک پر بھی ہیں اور بہت زبردست شخصیت ہیں۔
تو آپ بھی کچھ ایساہی تھوڑا مختلف سوچیں جس سے آپ اپنے ملک کو ٹھیک کرسکتے ہیں۔ تبدیل کرنے کے لیے یا تبدیلی میں مدد کرنے کے لیے امریکا سے کوئی ڈرون نہیں آئے گا۔ یہ سب کچھ آپ ہی کو تبدیل کرنا ہے۔ سیکھیں! سب سے سیکھیں اور سب کو سکھائیں۔ سب کو اپنی چیزیں فروخت کریں۔
ٹویٹر کیا ہے؟
ایک خاتون میرے پاس آ کر کہنے لگیں کہ آپ اتنے سارے کام کیسے کرتے ہیں ؟ تو میں نے ان سے کہا کہ اصل میں میرے اندر خود کو کلون (clone) کرنے کی صلاحیت ہے اس لیے میں دوسروں کو اپنا جیسا بنا سکتا ہوں۔ میں کلوننگ اس چھوٹی سی چیز کے ساتھ کرتا ہوں جو ہماری جیب میں موجود رہتی ہے۔ کیوں کہ موبائل فون کے ساتھ یہ کام بہت آسان ہے۔ آپ کے پاس بھی موبائل فون ہے؟ تو اپنا فون نکال لیں اور ایک SMS کریں۔ نمبر ہے 40404 اور میسج لکھیں گے :
frehanallahwala
(کا مطلب ہے ایک خالی جگہ چھوڑ دیں۔) یہاں صرف ایک جگہ ہے باقی تمام حروف ملا کر لکھنے ہیں۔ یہ جو نمبر ہے 40404 یہ ٹویٹر (twitter.comm) کا ہے۔ آپ نے ابھی مجھے ٹویٹر پر فالو کیا تو آپ کے پاس نہ انٹرنیٹ تھا نہ کچھ اور تھا، صرف 111 سو روپے والے موبائل سے بھی آپ فالوور بن سکتے ہیں۔ تو میری خواہش یہ ہے کہ تمام سیاست دان اس طرح اپنے ووٹرز کو SMSپر لے جائیں۔
ہمارے ملک میں 180 ملین لوگ ہیں۔ عمران خان کے پاس ایک لاکھ لوگ جمع تھے۔ اگر عمران خان ایک ٹویٹ کردے تو اس کے پاس کتنے فالوورز ہوں گے؟ اگر دس کروڑ SMS عمران خان کو بھیجیں تو کتنے پیسے لگیں گے؟ اگر 10 پیسے کا بھی میسیج ہوا تو ایک کروڑ روپے چاہیے ہوں گے۔ لیکن ٹویٹر کے ذریعے یہی کام بالکل مفت ہوسکتا ہے۔
ایک ہمارا میگزین نکلتا ہے techistan اس کو اپنے 40404 پر فالو (follow) کرلیں۔ آپ کو ایک دن میں ٹیکنالوجی کی ایک خبر آجائے گی۔ اگر فیس بک پر اس کولائیک (Like) کرلیں تو روز ایک فیڈ آپ کو مل جائے گی۔
آپ مجھے ٹویٹر پر فالو کر رہے ہیں تو میں بتادوں کہ دن میں صرف ایک دفعہ ٹویٹ کرتا ہوں، زیادہ نہیں کرتا کیوں کہ لوگ اس سے پریشان ہوجاتے ہیں۔ میرے یوٹیوب چینل کو بھی سبسکرائب کریں۔ میں بہت vocal آدمی ہوں تو اس کے ذریعے آئیڈیاز بھی شیئر کرتا ہوں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمائیں
ایک صاحب نے کہا کہ مجھے گاڑیوں کا شوق ہے۔ ایک صاحب یہاں بیٹھے ہیں جو اخبار نکالتے ہیں۔ آپ تصور کریں کہ پاکستان میں 180 ملین لوگ رہتے ہیں تو ان میں سے کتنے لوگوں کو گاڑیوں کا شوق ہوگا؟ ایک ملین؟ چلیں ایک ملین follower تو ہم اپنے ٹویٹر پر بنا سکتے ہیں۔ جب ہم ایک ملین لوگوں کواپنے ساتھ جوڑ لیں گے اور پھر ٹویوٹا کے پاس جائیں کہ السلام علیکم جی میں آپ سے ایک ٹویٹ کرنے کے ایک لاکھ روپے لوں گا جس سے آپ کا پیغام ایک ملین لوگوں کے پاس چلا جائے گا۔ تو کیا ٹویوٹا دے گا؟ 100 فیصد دے گی۔ صرف ایک ٹویٹ کرنے کے لیے ایک لاکھ روپے۔ یہ وہ آئیڈیے ہیں جو technopreneurship میں آتے ہیں۔ اب آپ آسانی سے ٹویٹ کریں چاہے کوئی نقاب والی خاتون ہوں، کوئی گھر کا اسٹوڈنٹ ہو وہ بھی کرسکتا ہے۔ بس آپ کو کرنا یہ ہے کہ درست ٹرینڈ کا انتخاب کرنا ہے اور پھر وہ آپ کو صحیح آئیڈیا دے گا۔ ٹویٹرپرکسی بھی نام سے اپناآئی ڈی بنائیں جیسے carking،carqueen ،carmania،cartrader وغیرہ وغیرہ۔
تو آپ جو بھی کرنا چاہتے ہیں اس سے محبت کریں۔ جس چیز کے بارے میں کام کر رہے ہیں اس کو اپنا passion بنائیں، اس کو اپناکاروبار بنائیں۔ fiverr.com پر جائیں اس پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔ اس ویب سائٹ پر آپ 5، 5 ڈالر کی چیزیں بیچ سکتے ہیں۔
تو جو آپ پسند کرتے ہیں وہ ٹویٹ کریں۔ اپنے پسندیدہ لوگوں کے بارے میں گوگل پر تلاش کر کے پڑھیں۔ انہیں فیس بک پر دوست بنائیں اوران سے سیکھیں۔ لنکڈان (linkedin.com) پر جو لوگ نہیں ہیں، خدا کے واسطے جوائن کریں، وہاں اپنی تصویریں لگائیں اور پروفائل ٹھیک کریں۔
اب جہاں تک سوال ہے کہ یوٹیوب سے پیسے کیسے بنائے جائیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ اپنی کوئی ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ (upload) کر دیں اور وہ 25 ہزار سے زیادہ بار لوگ دیکھیں گے تو یوٹیوب آپ کو ای میل بھیجے گااور کہے گا کہ کیا آپ اس کو monetize کرنا چاہتے ہیں ؟ یعنی آپ اس ویڈیو پر اشتہار چلا کر کمانا چاہتے ہیں؟ تو accept کا بٹن دبا دیں اور پھر یوٹیوب آپ کی ویڈیو پر اشتہار چلانا شروع کردے گا۔ اس کے بعد ہربار جو بھی آپ کی ویڈیو دیکھے گا اس پر ایک روپے آپ کو ملے گا۔ یہ ہوتے ہیں بالکل فری کے پیسے۔ اب کرنا یہ ہے کہ آپ کی امی بہت اچھا کھانا بناتی ہیں تو ان کی فلم بنا دیں۔ آپ کی ماسی بہت اچھی صفائی کرتی ہیں تو اس کی فلم بنا دیں۔ ہر چیز کی فلم بنائیں اور آن لائن لگائیں۔
اگر آپ ہارڈیز (Hardee’s) کے بلاگر بن جائیں یا ہارڈیز کے ٹویٹ کریں کہ ہارڈیز نے یہ کردیا وہ کردیا تو ہارڈیز بھی آپ کو پیسے دے گا۔ اس بارے میں مزید جاننا چاہیں تو ریحان ٹریننگ (rehantraining.com) پر تمام چیزیں اور کورسز بالکل مفت موجود ہیں۔ آپ وہاں سے سیکھ بھی سکتے ہیں اور دوسروں کے استاد بن کر سکھا بھی سکتے ہیں۔

خود کو بدلیں، معاشرہ ازخود بدل جائے گا
تو پھر بتائیے کہ کیا آپ واقعی تبدیلی لانا چاہے ہیں؟ اپنے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس کے لیے سب سے پہلے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ اپنے آپ کو تبدیل کریں گے تو دوسرے خود بخود بدل جائیں گے۔اگر آپ خود کو تبدیل نہیں کرسکتے تو پھر یہاں کچھ بھی نہیں بدل سکے گا۔
کیا آپ فیس بک پر موجود ہیں؟ کیا آپ کے ایک ہزار سے زیادہ دوست ہیں؟ نہیں ہیں تو آج ہی ایک ہزار دوست بنائیں اور اس میں سے زیادہ تر پاکستان سے باہر رہنے والوں کو شامل کریں۔ آپ کو اگر امریکا پسند ہے تو امریکیوں سے دوستی کریں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل ایسی جگہ ہے جہاں خشک سالی تھی اور پانی نہیں تھا لیکن وہ آج دنیا کا سب سے بڑے درآمد کنندگاں (importers) میں سے ایک ہے تو ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے علم حاصل کرنے کو منع نہیں کیا تو پھر یہودی سے پوچھیں ناں! آپ کیوں نہیں پوچھ سکتے؟ سب سے پوچھ سکتے ہیں۔
آپ اپنے رہنماؤں (mentors) کو بھی منتخب کریں۔آج کے بعد غیبتیں ختم کردیں۔ دیکھیں شیطان کو سب کہتے ہیں شیطان خراب ہے، شیطان خراب ہے۔ کوئی نیکی بنی؟ نہیں۔ اگر آپ کہیں کہ اللہ اچھا ہے، اللہ اچھا ہے، اللہ اچھا ہے۔ کوئی نیکی بنی؟ جی ہاں! تو بھئی آپ خسارے کا سودا کیوں کر رہے ہیں؟ جب بھی ہم کسی کی غیبت یا بری بات کرتے ہیں تو وہ کس کی patent ہے؟ بھئی آپ کی بری باتوں سے شیطان کو فائدہ ہو رہا ہے ناں؟ جتنی برائیاں ہیں وہ شیطان کی ہیں اور جتنی خصوصیات ہیں وہ اللہ کی ہیں۔ تو اگر ہم کسی کی تعریف کر رہے ہیں تو ہم اللہ کے حکم کے مطابق کر رہے ہیں۔ سب لوگ اللہ کی مخلوق ہیں۔ ہم کہیں گے کہ سبحان اللہ دیکھیے کتنا اچھا کام کر رہے ہیں؟ تو ہم کو نیکیاں بھی ساتھ ساتھ مل رہی ہیں۔
فیس بک پر اگر کوئی غلط چیز نظر آتی ہے تو اس کی رپورٹ کریں یا ڈیلیٹ (delete) کردیں۔ یاد رکھیں کہ تمام غلط کام شیطانی ہیں ان سے پرہیز کریں اور جو بھی ایسا کرتا ہوا نظر آئے اس کے لیے دعا کریں اللہ اس کو ہدایت دے۔

مجھ سے پوچھیں
میں فرداً فرداً سب سے نہیں مل سکتا۔ اگر آپ مجھ سے ملنا چاہیں، کسی آئیڈیے پر مجھ سے بات کرنا چاہیںیا اس بارے میں میری رائے جاننا چاہیے تو اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ آپ اپنی ویڈیو بنائیں اور مجھے فیس بک یا ای میل کے ذریعے بتا دیں۔ میرا ای میل ہے rehan@rehan.com ۔ اس پر آپ مجھے ای میل کرسکتے ہیں لیکن ویڈیو کے بغیر میں آپ سے بات نہیں کروں گا۔
آپ کی ویڈیو سے یہ ہوگا کہ آپ کا آئیڈیا میں دوسروں کے ساتھ آسانی سے شیئر کرسکوں گا۔ پھر جو لوگ آپ کی مدد کرنا چاہیں وہ براہ راست رابطہ کرلیں۔ میں بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ لوگ مجھے فیس بک کی ماسی بولتے ہیں کیونکہ میں کنیکٹر (connector) بنا ہوا ہوں۔ ایسا کنیکٹر جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ جیسے شادی کے لیے رشتہ کروانے والی ماسی ہوتی ہے ۔ تو ابھی اپنا موبائل فون نکالیں، ویڈیو ریکارڈنگ پر کلک کریں، کیمرہ اپنی طرف کریں اور ویڈیو بنائیں۔ ’’السلام علیکم، میرا نام فلانا ڈھمکانا ہے۔ شکریہ۔ آپ کا نام کیا ہے؟ ‘‘اب اس کو گھر جا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کردیں۔ میں مذاق بالکل نہیں کر رہا، یہ بہت مزے دار چیز ہے۔ آپ اس سے سیکھیں گے بھی اور مفت میں تفریح بھی ہوجائے گی۔